(۵) ناخن یابال وغیرہ کا ٹنے کے بعد دفن کر دینا چاہيں ۔ بیت الخلا یا غسل خانہ میں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے ۔
( در مختارمع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۶۸)
(۶)ناخن تر اش لینے کے بعد انگلیوں کے پورے دھولینے چاہیں ۔
(۷) بغل کے بالوں کو اُکھاڑ نا سنت ہے او رمونڈنا گناہ بھی نہیں ۔
( در مختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۱)
(۸) ناک کے بال نہ اُکھاڑیں کہ اس سے مرض آکلہ پیدا ہوجانے کا خوف ہے ۔
(الفتاویٰ الھنديہ ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان والحصا...الخ،ج۵،ص۳۵۸)
(۹) گر دن کے بال مونڈنامکروہ ہے۔
( در مختار مع ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۰)
یعنی جب کہ سر کے بال نہ مونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں ۔ ہاں اگر پورے سر کے بال مونڈائیں تو اس کے ساتھ گردن کے بھی مونڈادیں ۔ نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حجامت کے سوا گردن کے بال مونڈانے سے منع فرمایا ۔
(المعجم الاوسط،الحدیث ۲۹۶۹،ج۲،ص۱۸۷)
(۱۰) اَبرو کے بال اگر بڑے ہوجائیں تو ان کو تر شواسکتے ہیں ۔
( در مختار مع ردالمحتار ،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۰)
(۱۱)داڑھی کا خط بنوانا جائز ہے ۔
امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 296پر