Brailvi Books

سنتیں اور آداب
64 - 123
تراشنا،بغل کے بال اکھاڑنا او ر موئے زیرِ ناف مُونڈنا ۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مونچھیں اور ناخن تر شوانے او ربغل کے بال اکھاڑنے او ر موئے زیرِ ناف مُونڈنے میں ہمارے لئے یہ وقت مقرر کیا گیاہے کہ چا لیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔
 (صحیح مسلم ،کتاب الطھارۃ،باب فی خصال الفطرۃ،الحدیث۲۵۸،ص۱۵۳ )
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ بالا سے پتا چلا کہ چالیس دن کے اندر اندر یہ کام ضرورکرلیناچاہیے۔ ہفتہ میں ایک بار نہانا او ربد ن کو صاف ستھرا رکھنا اورموئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے ۔ پندر ہویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس رو ز سے زیادہ گزار دینا مکرو ہ و ممنوع ہے ۔
 (بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۱۹۶)
پیارے اسلامی بھائیو! ہوسکے تو ہر جمعہ کو یہ کام کر ہی لینے چاہیں کیونکہ ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ حضور تا جدارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جمعہ کے دن نماز کے لئے جانے سے پہلے مونچھیں کترواتے اور ناخن ترشواتے ۔
 (شعب الایمان ،با ب فی الطھارات ،فصل الوضوء ،الحدیث ۲۷۶۳،ج۳،ص۲۴)
ہاتھوں کے ناخن تراشنے کا طریقہ:
    ہاتھوں کے ناخن تر اشنے کے دو طریقے یہاں بیان کئے جاتے ہیں ان دونوں میں سے آپ جس طریقے پربھی عمل کریں گے ان شآء اللہ عزوجل سنت کا ثواب پائیں گے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کبھی ایک پر عمل کرلیں کبھی دو سرے پر ۔ اس طر ح دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے گا ۔ چنانچہ ذیل میں دونوں طریقے پیش کئے جاتے ہیں:
    (۱) مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضی شیرِخداکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
Flag Counter