(جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ،با ب ۹۲،الحدیث ۳۵۳۰،ج ۵،ص۳۰۸)
چنانچہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ظاہر وباطن دونوں کی صفائی کا خیال رکھے۔ ظاہر کی صفائی کاجہاں تک تعلق ہے تووہ یہ ہے کہ اپناجسم او رلباس وغیرہ نجاست سے پاک رکھنے کے ساتھ ساتھ میل کچیل وغیرہ سے بھی صاف رکھنا چاہیے ۔ نیز اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو بھی درست رکھیں۔ناخن بھی زیادہ نہ بڑھنے دیں کہ ان میں میل کچیل بھر جاتا ہے اور وہ کھانا وغیرہ کھانے میں پیٹ کے اندر پہنچتا ہے جس کے سبب طر ح طر ح کی بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔نیز بغل وزیرِ ناف کے بال بھی صاف کرتے رہناچاہیے ۔ رہاباطن کی صفائی کا معاملہ تو اپنے باطن کوبھی کینۂ مسلم ، غرو ر وتکبر ،بغض وحسد ، وغیرہ وغیرہ ر ذائل سے پاک وصاف رکھنا ضروری ہے ۔ باطن کی صفائی کے لئے اچھی صحبت بے حد ضروری ہے ۔ ظاہر ی صفائی یعنی ناخن ،موئے بغل وغیرہ کی صفائی کے متعلق مدنی پھول ملاحظہ ہوں ۔
چالیس دن کے اندر اندر ان کاموں کو ضرور کرلیں، مونچھیں اور ناخن