Brailvi Books

سنتیں اور آداب
61 - 123
فرمائے)اسے دو بارہ چھینک آئی تو حضورِاکرم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ، '' اسے زکام ہوگیا ہے۔''
 (جامع الترمذی،کتاب الادب،باب ما جاء لم یشمت العاطس،الحدیث۲۷۵۲،ج۴ ،ص۳۴۱)
    (۷)جوا ب اس صورت میں واجب ہوگاجب چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے اور حمد نہ کرے تو جواب واجب نہیں ۔
(بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۲)
حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، میں نے حضور نبی کریم ،رؤف و رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ،'' جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو تم اس کے لئے یَرْحَمُکَ اللہ کہو ۔ اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ نہ کہے تو تم بھی یَرْحَمُکَ اللہ نہ کہو۔ ''
 ( صحیح مسلم،کتاب الزھد والرقائق،باب تشمیت العاطس وکراہیۃالتثاوب،الحدیث۲۹۹۲،ص۲۹۹۲)
    (۸)بڑھیا کی چھینک کاجواب مرد، زور سے دے اور جوان عورت کا جواب دل میں دے ۔ (البتہ اتنی آواز ضروری ہے کہ جواب دینے والا خود سن لے )
 (بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۳)
    (۹)چھینکنے والا دیوارکے پیچھے ہوجب بھی جوا ب دیں ۔
 (بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۳)
    (۱۰)کئی اسلامی بھائی موجود ہوں تو بعض حاضرین نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہوگا مگر بہتریہی ہے کہ سارے جواب دیں ۔
 (المرجع السابق،ص301)
    (۱۱)نماز کے دوران چھینک آئے تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہیں ۔
 (بہار شریعت،حصہ۳،ص۴۹)
    (۱۲) آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب دے
Flag Counter