| سنتیں اور آداب |
علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' جب کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ''کہے تو فرشتے کہتے ہیں ''رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ '' اور وہ '' اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ '' کہتا ہے ، تو فرشتے یَرْ حَمُکَ اللہُ یعنی اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے ۔
(طبرانی اوسط،الحدیث ۳۳۷۱ج۲،ص۳۰۵)
(۳)چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا سنت ہے بہتر یہ ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے ۔ سننے والے پر واجب ہے کہ فو را ۔ یَرْ حَمُکَ اللہ ''(یعنی اللہ عزوجل تجھ پر رحم کرے )کہے ۔ اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والاخود سن لے۔ اگر جواب میں تا خیر کردی تو گنہگارہوگا ۔صرف جواب دینے سے گناہ معا ف نہیں ہوگا توبہ بھی کرنا ہوگی۔
(بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۱۰۲ )
(۴)جواب سن کر چھینکنے والاکہے۔'' یَغْفِرُاللہُ لَنَاوَلَکُمْ ''(اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے ) یا یہ کہے ،'' یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ ''(اللہ عزوجل تمہیں ہدایت دے اور تمہاری اصلاح فرمائے)۔
(الفتاوی الھندیہ،کتاب ما یحل وما لا یحل،الباب السا بع فی السلام وتشمیت العاطس ،ج۵،ص۳۲۶)
(۵)چھینکنے والا زورسے حمد کہے تا کہ کوئی سنے اور جواب دے دونوں کو ثواب ملے گا ۔
(الفتاوی الھندیہ،کتاب ما یحل وما لا یحل،الباب السا بع فی السلام وتشمیت العاطس ،ج ۵، ص۳۲۶)
(۶)چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے۔ دوبارہ چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے تو دو بارہ جواب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔
(بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۲)
حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو چھینک آئی ۔ میں بھی موجود تھا ۔نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا : یَرْ حَمُکَ اللہ ،(اللہ عزوجل تجھ پر رحم