| سنتیں اور آداب |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
چھینکنا بھی ایک اہم امر ہے اس کی بھی سنتیں اور آداب ہیں ۔لیکن افسو س ! مدنی ماحول سے دور رہنے کے باعث مسلمانوں کی اکثریت کواس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہوتیں ، جہاں چھینک آئی زور زورسے ''آکچھی آکچھی ''کرلیا۔ ناک بھر آئی تو سنک لی او ربس ۔ ایسا نہیں ہے ، اس کی بھی سنتیں اور آداب ہمیں سیکھنے چاہیں ۔(۱)چھینک کے وقت سر جھکائیں ، منہ چھپائیں او رآوا ز آہستہ نکالیں چھینک کی آواز بلند کرنا حماقت ہے ۔
(بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۱۰۳)
حضرت عبادہ بن صامت وشداد بن اوس و حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو آواز بلند نہ کرے کہ شیطان کو یہ بات پسند ہے کہ ان میں آواز بلند کی جائے۔''
( شعب الایمان،باب فی تشمیت العاطس،فصل فی تکریرالعاطس،الحدیث۹۳۵۵،ج۷،ص۳۲)
(۲)جب چھینک آئے او ر'' اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ'' کہیں گے تو فرشتے'' رَبِّ الْعٰلَمِیْن'' کہیں گے ۔ اگر آپ '' اَلْحَمْدُ الِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن '' کہیں گے تو معصوم فرشتے یہ دعا کریں گے ، یَرْ حَمُکَ اللہ (یعنی اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے )۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ