| سنتیں اور آداب |
تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم دونوں مقد س آنکھوں میں سرمہ کی تین تین سلائیاں استعمال فرماتے تھے اور اکثر اسی پر عمل تھا ۔ تاہم بعض روایات میں سیدھی آنکھ مبارک میں تین سلائیاں اور بائیں میں دو کا بھی ذکر آیا ہے اور '' شمائل رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم '' میں اسی طر ح بیان کیا گیا ہے کہ سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ہرآنکھ مبارک میں دودو سلائیاں سرمہ کی ڈالتے اور ایک سلائی کو دو نو ں مبارک آنکھوں میں لگاتے۔
(وسائل الوصول الی شمائل الرسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم،الفصل الثانی فی صفۃبصرہ....الخ،ص۷۷)
لہذاہمیں مختلف اوقات میں مختلف طریقے پرسرمہ استعمال کرناچاہے ۔یعنی کبھی دونوں آنکھوں تین تین سلائیاں کبھی دائیں آنکھ میں تین اوربائیں میں دو ،تو کبھی دونوں آنکھوں میں دو دو اور پھر آخر میں ایک سلائی کوسرمہ والی کر کے باری باری دونوں آنکھوں میں لگائیں ۔ اس طرح کر نے سے تینوں سنتیں ادا ہوجائیں گی ۔
یہ بات یاد رکھیں کہ تکریم کے جتنے بھی کام ہوتے سب ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدھی جانب سے شرو ع کیا کرتے،لہٰذا پہلے سیدھی آنکھ میں سرمہ لگائیں پھر بائیں آنکھ میں ۔(المرجع السابق،الفصل الثالث،فی صفۃ شعرہ....الخ،ص۸۱)
اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل ! ہمیں ہربار سو تے وقت سرمہ لگانے کی سنت بھی ادا کرنے کی تو فیق عطا فرما۔'' امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ۔
عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے ! جو نقش پاکا لگاؤں غبار آنکھوں میں