میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرمہ اثمد کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ سرمہ آمنہ رضی اللہ عنہا بی بی کے دلارے، ہم بے کسو ں کے سہارے ،محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو پسند ہے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے خود بھی استعمال فرمایا او راپنے غلاموں کو اس کے استعمال کی ترغیب بھی دلائی اور اس کے فوائد بھی ارشاد فرمائے ۔ لہذا ہوسکے تو سرمہ اثمد ہی استعمال کرنا چاہے ۔احادیث بالاسے یہ بھی معلوم ہواکہ سرمہ اثمد بینائی کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پلکوں کے بال بھی اُگاتا ہے ۔کہاجاتا ہے کہ اِثمداصفہان میں پایا جاتا ہے ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور مشرقی ممالک میں پیدا ہوتا ہے ۔ بہر حال اثمدکا سر مہ میسر آجائے تو یہی افضل ہے ورنہ کسی قسم کابھی سر مہ ڈالا جائے سنت ادا ہوجائے گی ۔
حدیث بالامیں یہ بھی ارشاد فرمایاگیا ہے کہ ہمارے پیارے سر کار، مدینے کے