Brailvi Books

سنتیں اور آداب
57 - 123
ہمیں سرمہ لگانا نہ بھولنا چاہے  ۔سوتے وقت سرمہ لگانے میں یہ مصلحت ہے کہ سرمہ زیادہ دیر تک آنکھوں میں رہتا ہے اور آنکھوں کے مسامات میں سرایت کر کے آنکھوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔
سرمہ اِثمدبہتر ہے:
        ابن ماجہ کی روایت میں ہے '' تمام سرموں میں بہتر سرمہ ''اِثمد'' ہے کہ یہ نگاہ کو روشن کرتا اور پلکیں اُگا تا ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب الطب،باب الکحل بالاثمد،الحدیث۳۴۹۷،ج۴،ص۱۱۵)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرمہ اثمد کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ یہ سرمہ آمنہ رضی اللہ عنہا بی بی کے دلارے، ہم بے کسو ں کے سہارے ،محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو پسند ہے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اسے خود بھی استعمال فرمایا او راپنے غلاموں کو اس کے استعمال کی ترغیب بھی دلائی اور اس کے فوائد بھی ارشاد فرمائے ۔ لہذا ہوسکے تو سرمہ اثمد ہی استعمال کرنا چاہے ۔احادیث بالاسے یہ بھی معلوم ہواکہ سرمہ اثمد بینائی کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ پلکوں کے بال بھی اُگاتا ہے ۔کہاجاتا ہے کہ اِثمداصفہان میں پایا جاتا ہے ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور مشرقی ممالک میں پیدا ہوتا ہے ۔ بہر حال اثمدکا سر مہ میسر آجائے تو یہی افضل ہے ورنہ کسی قسم کابھی سر مہ ڈالا جائے سنت ادا ہوجائے گی ۔
سرمہ لگانے کاطریقہ
    حدیث بالامیں یہ بھی ارشاد فرمایاگیا ہے کہ ہمارے پیارے سر کار، مدینے کے
Flag Counter