لوٹنے رحمتیں قافلے میں چلو سیکھنے سُنتیں قافلے میں چلو
چاہو گر برکتیں قافلے میں چلو پاؤگے عظمتیں قافلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو دور ہوں آفتیں قافلے میں چلو
طیبہ کی جستجو حج کی گر آرزو ہے بتا دوں تمہیں قافلے میں چلو
گر مدینے کا غم چاهئے چشمِ نم لینے یہ نعمتیں قافلے میں چلو
آنکھ بے نور ہے دِل بھی رنجور ہے ختم ہوں گردشیں قافلے میں چلو
اولیائے کرام ان کا فیضانِ عام لوٹنے سب چلیں قافلے میں چلو
اولیاء کا کرم تم پہ ہو لاجَرم مل کے سب چل پڑیں قافلے میں چلو
ماں جو بیمار ہو قرض کا بار ہو رنج و غم مت کریں قافلے میں چلو
رب کے در پر جھکیں التجائیں کریں بابِ رحمت کُھلیں قافلے میں چلو
دِل کی کالک دُھلے مرضِ عصیاں ٹلے آؤ سب چل پڑیں قافلے میں چلو
قرض ہو گا ادا آکے مانگو دُعاء پاؤ گے برکتیں قافلے میں چلو
دکھ کا درماں ملے آئیں گے دِن بھلے ختم ہوں گردشیں قافلے میں چلو
غم کے بادل چھٹیں اور خوشیاں ملیں دل کی کلیاں کھلیں قافلے میں چلو
ہو قوی حافظہ ٹھیک ہو ہاضمہ کام سارے بنیں قافلے میں چلو
علم حاصل کرو جہل زائل کرو پاؤ گے رفعتیں قافلے میں چلو
تم قرضدار ہو یا کہ بیمار ہو چاہو گر راحتیں قافلے میں چلو
گرچہ ہوں گرمیاں یا کہ ہوں سردیاں چاہے ہوں بارشیں قافلے میں چلو