قافلے کے ہمراہ حاضری دوں گا (۴۹)سنی عالم کی زیارت کروں گا (۵۰)اگر مدنی قافلے کا کوئی مسافربیمار ہو گیا توتیمارداری کروں گا (۵۱)اگر کسی مسافر کے پاس خرچ ختم ہو گیا تو امیرِ قافلہ کے مشورے سے اس کی مالی امداد کروں گا (۵۲،۵۳،۵۴) سفر میں اپنے لئے ،اپنے گھر والوں کے لئے اور امتِ مسلمہ کے لئے دعائے خیر کروں گا (۵۵،۵۶)جس مسجد میں قیام ہوگا اس مسجد اور وہاں کے وضو خانے کی صفائی کروں گا (۵۷)اگر کسی نے بلاوجہ سختی کی تب بھی صبر کروں گا(۵۸،۵۹)تھکن وغیرہ کے سبب غصّہ آگیا تو زبان کا قفل ِمدینہ لگا تے ہوئے ضبط کروں گا (۶۰،۶۱،۶۲)اگر مسجد میں مدنی قافلہ کو قیام کی اجازت نہ ملی تو کسی سے الجھنے کے بجائے اس کو اپنے اخلاص کی کمی تصور کروں گا اور مدنی قافلے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعائے خیر کرتا ہوا پلٹوں گا (۶۳)اگر کوئی جھگڑا کریگا تو حق پر ہونے کے باوجود اس سے جھگڑا نہ کر کے حدیث پاک میں دی ہوئی بشارت مصطفےٰ کا حقدار بنوں گا :''جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا ترک کردے اسکے لئے جنّت کے درمیان میں مکان بنایا جائے گا ۔''