(۱۴)مسافر کو چاہے کہ وہ دعاسے غفلت نہ کرے کہ یہ جب تک سفر میں ہے اس کی دعا ء قبول ہوتی ہے بلکہ جب تک گھر نہیں پہنچتا اس وقت تک دعاء مقبول ہے۔ اسی طرح مظلوم کی دعا اور ماں باپ کی اپنی اولاد کے حق میں دعا ء بھی قبول ہوتی ہے۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :'' تین قسم کی دعائیں مستجاب (مقبول)ہیں ۔ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں۔ (۱)مظلوم کی دعاء(۲) مسافر کی دعا ء(۳) باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دعا۔''
( جامع الترمذی،کتاب الدعوات،باب ماذکر فی دعوۃ المسافر ،الحدیث،۳۴۵۹،ج۵،ص۲۸۰)
(۱۵) منزل پر اُتریں تو وقتاً فوقتاً یہ دعا پڑھیں ان شا ء اللہ عزوجل ہر نقصان سے بچیں گے ۔دعا یہ ہے:
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ
ترجمہ : اللہ عزوجل کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا۔
(کنز العمال ،کتاب السفر ،الفصل الثانی فی آداب السفر،الحدیث ۱۷۵۰۸،ج۶،ص۳۰۱)
(۱۶)جب دشمن کا خوف ہو ۔ سو رۃ'' لِاِیْلٰف''پڑھ لیں ۔ان شاء اللہ عزوجل ہر بلا ء سے امان ملے گی ۔
(الحصن الحصین، کتاب ادعیۃ السفر ،ص۸۰)
(۱۷) جب کسی مشکل میں مدد کی ضرورت پڑے تو حدیث پاک میں ہے اس طرح تین بار پکاریں: