Brailvi Books

سنتیں اور آداب
48 - 123
منتشر ہو کرٹھہرتے تھے ۔سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:''تمہارا منتشر ہو کر ٹھہرنا شیطان کی جانب سے ہے۔''اس کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان جب کبھی کسی منزل پر اترتے تو مل کر ٹھہرتے۔
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الجہاد ،باب مایؤمرمن انضمام العسکر،الحدیث۲۶۲۸،ج۳،ص۵۸)
    (۱۲) دوران سفر اگر کوئی حاجت مندمل جائے تو اس کی حاجت روائی کرنی چاہے  ۔ ان شاء اللہ عزوجل اس میں ثواب زیادہ ہوگا کہ بسا اوقات مسافر خو د بھی تو حاجت مند ہوجاتا ہے پھر بھی وہ دوسروں کی مدد کریگا تو اس کے اجر وثواب کا کون اندازہ کر سکتا ہے ؟ حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر آیا۔ اور دائیں بائیں اسے پھرانے لگا تو مدنی تاجدار حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:'' جس کے پاس فالتو سواری ہے تو وہ اسے دیدے جس کے پاس سواری نہیں ہے او رجس کے پاس فالتو زادِراہ ہوتووہ اس کو دیدے جس کے پاس زادِراہ نہیں ہے ۔حتی کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہم میں سے کسی کا فالتو مال پر کوئی حق نہیں ہے۔
 (سنن ابو داؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فی حقوق المال ، ج۲، الحدیث ۱۶۶۳، ص۱۷۵)
    (۱۳)جب سیڑھیوں پرچڑھیں یا اونچی جگہ کی طرف چلیں ،یا ہمار ی بس وغیرہ کسی ایسی سڑک سے گزرے جو اونچا ئی کی طر ف جارہی ہوتو ''اَللہُ اَکْبَرُ''کہنا سنت ہے او رجب سیڑھیوں سے اُتریں یا ڈھلان کی طرف چلیں تو''سُبْحَانَ اللہِ '' عزوجل کہنا سنت ہے ۔حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرمایا:''جب ہم بلندی پرچڑھتے تو ''اَللہُ اَکْبَرُ''کہتے او ر جب پست(ڈھلان والی)جگہ پر اُترتے تو
Flag Counter