Brailvi Books

سنتیں اور آداب
43 - 123
    (۳) اگر چند اسلامی بھائی مل کر قافلے کی صورت میں سفر کریں تو کسی ایک کو امیربنا لیں ۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :''جب تین آدمی سفر پر روانہ ہوں تو وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں ۔
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الجہاد ،باب فی القوم یسافرون۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۲۶۰۹،ج۳،ص۵۱،۵۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    نگرانِ قافلہ خوش اخلاق، جذبہ اخلاص و ایثار سے آراستہ وپیرا ستہ ہونا چاہے ۔ اپنے ہم سفر اسلامی بھائیوں کی دیکھ بھال کرے ۔ بالفرض اگر شرکاء قافلہ کسی بات پر ناراض بھی ہوجائیں ، آپس میں کوئی چپقلش یا رنجش بھی ہوجائے تو حکمت عملی کے ساتھ معاملات کوسلجھا دے مگر عدل وانصاف کادامن بھی نہ چھوڑے ۔ نیز مامور بھائیوں کو بھی چاہیے کہ جہاں تک شریعت کے مطابق نگران ِقافلہ ہدایات دے ان کی بجاآوری میں ہرگز ہرگز کوتاہی نہ کریں ۔سفر میں حوصلہ بلند رکھنا چاہے  ۔ بعض اوقات سفر کی تھکان کے سبب یا آپس میں اختلاف رائے کی وجہ سے کچھ تلخیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں ۔ ان مواقع پر صبر وتحمل کادامن نہ چھوڑیں ۔پیارومحبت سے سارے معاملات کو سلجھاتے چلے جائیں۔
    (۴)چلتے وقت عزیزوں ، دوستو ں سے قصور معاف کروائیں اور جن سے معافی طلب کی جائے ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں ۔
 (بہارِ شریعت،حصہ ۶،ص۱۹)
    حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' جس کے پاس اس کا بھائی معذرت کے لئے آئے تو وہ اس کا
Flag Counter