| سنتیں اور آداب |
اکرم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو ایک شخص نے حجرہ مبارک کے سوراخ سے جھانکا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم لوہے کی کنگھی سے سر مبارک کھجارہے تھے فرمایا : اگر میری توجہ اس طرف ہوتی کہ تو دیکھ رہا ہے تو اس لوہے کی کنگھی کو تیری آنکھ میں چبھودیتا۔ نظر سے بچاؤ کے لئے ہی تو اجازت طلب کرنے کا حکم ہے ۔
(جامع الترمذی ،کتاب الاستئذان ،باب من اطلع فی دار قوم بغیر اذنھم،الحدیث۲۷۱۷،ج۴،ص۳۲۵ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے بچنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے یا کھڑکیا ں بند رکھنی چاہیں یا ان پر کوئی سادہ سا پردہ وغیرہ ڈال دینا چاہے جس کی وجہ سے بے پردگی نہ ہو ۔
(۱۲)گھر کے انتظامات پر بے جا تنقید نہ کریں جس سے میزبان کی دل آزاری ہو۔ہاں ، اگر ناجائز بات دیکھیں ، مثلاً جاندار وں کی تصاویر وغیر ہ آویزاں ہوں تو احسن طریقے سے سمجھا دیں ۔ہوسکے توکچھ نہ کچھ تحفہ پیش کریں خواہ کتنا ہی کم قیمت ہو ،محبت بڑھے گی۔
(۱۳)جو کچھ کھانے پینے کو پیش کیا جائے ۔ کوئی صحیح مجبوری نہ ہو تو ضرور قبول کریں ۔ ناپسند ہو جب بھی منہ نہ بگاڑیں کہ میز بان کی دل شکنی ہوگی۔
(۱۴)واپسی پر اہل خانہ کے حق میں دعا بھی کریں اور شکریہ بھی ادا کریں ۔
(۱۵)سلا م کرنے کے بعد رخصت ہوں۔
(۱۶)گھر میں اگر کوئی نہ ہو تو''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ''
کہیں کہ مومنوں