جیساکہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرمایا ، میں مدنی آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور دروازہ کھٹکھٹا یا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے ؟ میں نے عرض کی ''میں ''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میں ، میں کیا ؟ گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا ۔
(صحیح البخاری ،کتاب الاستئذان ،باب اذاقال من ذافقال انا،الحدیث ۶۲۵۰،ج۴،ص۱۷۱)
(۱۱)کسی کے گھر میں جھانکنا نہیں چاہے ،جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، رسول اکرم شفیع رو ز محشرصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خانہ اقدس میں تشریف فرماتھے ۔ کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کوجھانکا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے نیزہ کی نوک اس کی طرف کی چنا نچہ وہ پیچھے ہٹ گیا ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الاستئذان ،باب من اطلع فی دار قوم بغیر اذنھم،الحدیث۲۷۱۷،ج۴،ص۳۲۵ )
اسی طرح کسی موقع پر سرکارمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم دردولت پر جلوہ فرما تھے اور کسی نے جب سوراخ سے جھانک کردیکھا تو سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اظہار ناراضگی فرمایا ۔ جیسا کہ حضرت سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی