| سنتیں اور آداب |
''اجازت'' ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:'' جس وقت تم میں سے کسی کو بلایا جائے ، اور وہ ایلچی (یعنی قاصد)کے ساتھ آئے یہ اس کا اِذن (اجازت) ہے۔'' ایک اور روایت میں ہے کہ آدمی کا کسی کو بلانے کے لئے بھیجنا اس کی طر ف سے اجازت ہے۔
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب الرجل اذادعی أیکون ذلک اذنہ، ،الحدیث۹۸۱۵،ج۴،ص۴۴۷)
(۸)اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے کھنکارناچاہے جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابر کت میں ایک مرتبہ رات کے وقت اور ایک مرتبہ دن کے وقت حاضر ہوتا تھا ۔جب میں رات کے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس حاضری دیتا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے لئے کھنکارتے ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الادب ،باب الاستئذان،الحدیث۳۷۰۸،ج۴،ص۲۰۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب کسی کے گھر جائیں تو دروازے سے گزرتے وقت ضرور تاً دو سرے کمرے کی طر ف جاتے ہوئے کھنکارلینا چاہے تاکہ گھر کے دیگر افراد کو ہماری موجود گی کا احساس ہوجائے اور وہ آگے پیچھے ہوسکیں۔
(۹)اگر دروازے پر پر دہ نہ ہو تو ایک طر ف ہٹ کر کھڑے ہوں۔حضرت عبداللہ بن بسررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جب کسی کے دروازہ پر تشریف لاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے پھر فرماتے
'' اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ'' ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ''