Brailvi Books

سنتیں اور آداب
27 - 123
کے دستِ مبارک کو چوماتھا ۔ اس دست بوسی کی برکت سے ہم نے اسے معاف کیا۔
 (اسرار اولیاء مع ہشت بہشت،ص۱۱۳)
؎ رحمت حق ''بہا''نہ می جوید 	رحمت حق ''بہانہ'' می جوید
یعنی اللہ عزوجل کی رحمت بہا یعنی قیمت طلب نہیں کرتی ،اللہ عزوجل کی رحمت تو بہانہ ڈھونڈتی ہے ۔
    مزید شیخ المشائخ بابا فرید الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :قیامت کے دن بہت سارے گناہگار، بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔
 (اسرار اولیاء مع ہشت بہشت،ص۱۱۳)
    (۷)دو نوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں۔
 (بہارشریعت ،حصہ ۱۶،ص۹۸)
    (۸)جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔
 (بہارشریعت،حصہ ۱۶،ص۹۷)
    (۹)رخصت ہوتے وقت بھی مصافحہ کریں۔صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں: ''اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری مگر اصل مصافحہ کا جواز حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔
 (بہار شریعت،حصہ ۱۶،ص۹۸)
    (۱۰) فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔
 (بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۹۸)
    (۱۱)مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں
Flag Counter