مزید شیخ المشائخ بابا فرید الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :قیامت کے دن بہت سارے گناہگار، بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے۔
(اسرار اولیاء مع ہشت بہشت،ص۱۱۳)
(۷)دو نوں ہاتھوں سے مصافحہ کریں۔
(۸)جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مصافحہ کرنا مستحب ہے۔
(۹)رخصت ہوتے وقت بھی مصافحہ کریں۔صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں: ''اس کے مسنون ہونے کی تصریح نظر فقیر سے نہیں گزری مگر اصل مصافحہ کا جواز حدیث سے ثابت ہے تو اس کو بھی جائز ہی سمجھا جائے گا۔
(۱۰) فقط انگلیوں کے چھونے کا نام مصافحہ نہیں ہے سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔
(۱۱)مصافحہ کرتے وقت سنت یہ ہے کہ ہاتھ میں رومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں