حضرت زارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبد القیس کا وفد سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوا،یہ بھی اس وقت وفد میں شریک تھے ۔آپ فرماتے ہیں کہ جب ہم اپنی منزلوں سے مدینہ شریف پہنچے تو جلدی جلدی سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دست مبارک اور قدم شریف کو بو سہ دیا ۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الرجل ،الحدیث۵۲۲۵،ج۴،ص۴۵۶)
سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشو ا حضرت سیدنا با با فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :مشائخ وبزرگان دین رحمہم اللہ کی دست بو سی یقینادین ودنیا کی خیروبرکت کاباعث بنتی ہے ۔ ایک دفعہ کسی نے ایک بزرگ کو انتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا ،
یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ کہا ، دنیا کاہرمعاملہ اچھا اور برا میرے آگے رکھ دیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ حکم ہوا ، اسے دو زخ میں لے جاؤ ! اس حکم پر عمل ہونے ہی والا تھا کہ فرمان ہوا ،'' ٹھہرو ! ایک دفعہ اس نے جامع دمشق میں خواجہ شریف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ