Brailvi Books

سنتیں اور آداب
25 - 123
فرمایا ، جب وہ حاضر ہوئے تو سرکا رصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرط ِشفقت سے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوگلے لگا لیا ۔ چنا نچہ حضرت ایوب بن بشیررضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ، میں نے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ،جس وقت تم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے ملتے تھے کیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تمہارے ساتھ مصافحہ فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو نہیں ملا مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے ساتھ مصا فحہ کرتے (یعنی میں نے جب بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ، سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مصا فحہ ضرور فرمایا)ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے میری طر ف پیغام بھیجا ۔میں اپنے گھر موجود نہیں تھا ۔ جب میں آیا مجھے خبر دی گئی ۔ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تخت پر رونق افرو ز تھے ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے گلے لگالیا۔یہ بہت بہتر ہوا اور بہتر ۔
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی المعانقہ ،الحدیث۵۲۱۴،ج۴،ص۴۵۳)
    حضرت سیدنا جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکا ر ابد قرارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو ان کو بھی گلے سے لگایا چنانچہ حضرت شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ،روف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے تو گلے سے لگالیا او ران کی آنکھوں کے درمیان بو سہ دیا ۔
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی قبلہ مابین العینین ،الحدیث۵۲۲۰،ج۴،ص۴۵۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان سرکار ذی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رحمت بھرے ہاتھوں کو چومنے کی سعادت بھی حاصل کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما
Flag Counter