Brailvi Books

سنتیں اور آداب
117 - 123
سوائے قرض کے ۔
 (صحيح مسلم ، کتاب الامارۃ،باب من قتل فی سبيل اللہ، الحديث۶ ۱۸۸،ص۱۰۴۶)
    سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ۔''جو لوگو ں کا مال بطورقرض لے او ر وہ نیت اس کے ادا کرنے کی رکھتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طرف سے ادا کردے گا ۔اور جس شخص نے مال بطور قرض لیا او رنیت ادا کرنے کی نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کی وجہ سے تباہ کردے گا۔''
 (صحيح البخاری ،کتاب فی الاستقراض.......الخ ،باب من اخذ اموال الناس..... الخ ،الحديث ۲۳۸۷،ج۲،ص۱۰۵)
     پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے جس شخص نے اپنی جان تک اللہ عزوجل کی راہ میں قربان کرد ی اس پر بھی اگر کسی کا قر ضہ ہے اور وہ ادا کرکے نہیں آیاہے تو وہ معاف نہ ہوگا کیونکہ یہ بندوں کے حقوق سے تعلق رکھتا ہے ۔ جب تک قرض خواہ معاف نہ کرے اس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی معاف نہيں کریگا ۔

    اے ہمارے پیارے اللہ ! عزوجل ہمیں فراخ دلی کے ساتھ بہ نیت ثواب حاجتمند وں کو قرض دینے اورقرضدار کے ساتھ نرمی کر نے اور اپنے اوپر آتا ہو ا قرض دیانتداری سے ادا کرنے کی تو فیق عطا فرما۔

اٰمین بجا ہ النبی الامین صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم
Flag Counter