Brailvi Books

سنتیں اور آداب
116 - 123
کہ تنگدست قرضدار کو مہلت دے یا قر ض کا بو جھ اس کے اوپر سے اتاردے۔

(یعنی معاف کردے)
 (صحيح مسلم ،کتاب المساقاۃ ،باب فضل انظارالمعسر،الحديث۱۵۶۳،ص۸۴۵)
قرض بہت ہی بڑا بوجھ ہے :
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں نماز پڑھانے کے لئے جنازہ لایا گیا ۔ تو حضور سید دوعالم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پوچھا ،اس مرنے والے پرکوئی قر ض تو نہیں ہے ؟ عرض کیا گیا ،ہاں اس پر قرض ہے ۔ حضور صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پوچھا ، اس نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے کہ جس سے یہ قرض ادا کیاجاسکے ، عرض کیا گیا ، نہیں ، تو حضور سید دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،تم لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھ لو ، ( میں نہیں پڑھوں گا)۔ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دیکھ کر عرض کیا ۔۔۔۔۔۔،اے اللہ عزوجل کے رسول ! صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں اس کے قرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آگے بڑھے اور نماز جنازہ پڑھائی او ر فرمایا ،'' اے علی ! رضی اللہ تعالی عنہ اللہ تعالیٰ تجھے جزائے خیردے ۔ او رتیری جاں بخشی ہو جیسے کہ تو نے اپنے اس مسلمان بھائی کے قر ض کی ذمہ داری لے کر اس کی جان چھڑائی ۔ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی طر ف سے اس کا قر ضہ اداکرے مگر یہ کہ اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو رہا ئی بخشے گا۔
 (السنن الکبریٰ للبيھقی، کتاب الضمان،باب وجوب الحق بالضمان ،الحديث ۱۱۳۹۸،ج۶،ص۱۲۱)
    حضورتا جدار مدینہ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے ، وہ شخص جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جان دی ہے (یعنی شہید ہوا ہے)اس کا ہر گناہ معا ف ہوجائے گا
Flag Counter