Brailvi Books

سنتیں اور آداب
115 - 123
امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقویٰ :
    حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جنازہ پڑھنے تشریف لے گئے دھوپ کی بڑی شدت تھی اور وہاں کوئی سایہ بھی نہ تھا ساتھ ہی ایک شخص کامکان تھا ۔ اس مکان کی دیوار کا سایہ دیکھ کر لوگو ں نے امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ حضور! آپ اس سائے میں کھڑے ہوجائیے ۔ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، کہ اس مکان کا مالک میرا مقروض ہے اور اگر میں نے اس کی دیوار سے کچھ نفع حاصل کیا تو میں ڈرتا ہوں کہ عند اللہ (اللہ عزوجل کے نزدیک) کہیں سود لینے والوں میں ميراشمار نہ ہوجائے، کیونکہ سر ور عالم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جس قرض سے کچھ نفع لیاجائے وہ سود ہے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دھوپ میں ہی کھڑے رہے ۔
 (تذکرۃ الاولياء ،ص۱۸۸،و کنزالعمال ، کتاب الدين ،قسم الاقوال، الحديث ۱۵۵۱۲،ج۶،ص۹۹)
اللہ اکبر !ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتقویٰ کیا ہی خوب تھا۔ بزرگان دین (رحمہم اللہ) کے دلوں میں اللہ عزوجل کا خو ف کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔ اسی لئے یہ حضراتِ مقدسہ قد م قدم پر اللہ عزوجل سے ڈرتے ہیں ۔اللہ تعالی کی ان پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
قیامت کے غم سے بچنے کے لئے:
    حضورتاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ،جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن غم اور گھٹن سے بچائے تو اسے چاہيے
Flag Counter