Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
58 - 59
ہفتم کچھ استقرائی کچھ اختراعی قاعدے :۔
مثلاً رجب کی چوتھی رمضان کی پہلی ہوگی۔ رمضان کی پہلی ذی الحجہ کی دسویں ہوگی۔ اگلے رمضان کی پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوگی چار مہینے برابر تیس تیس کے ہوچکے ہیں۔ یہ ضرور اونتیس کا ہوگا تین پے درپے اونتیس کے ہوئے ہیں یہ ضرور تیس کا ہوگا۔

ان کا جواب اسی قدر میں ہے۔
مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ بِہَا مِنۡ سُلْطٰنٍ (1)
حق سبحانہ نے ان باتوں پر کوئی دلیل نہ اتاری۔

وجیز امام کردری میں ہے۔
شھر رمضان جاء یوم الخمیس لایضحی ایضافی یوم الخمیس مالم یتحقق انہ یوم النحرو مانقل عن علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان یوم أول الصوم یوم النحر لیس بتشریع کلی بل اخبار عن اتفاقی فی ھذہ السنۃ وکذا ماھو الرابع من رجب لایلزم ان یکون غرۃ رمضان بل قدیتفق۔(۲)
ترجمہ :رمضان کا مہینہ خمیس کو آیا لہٰذا قربانی جمعرات کو نہ ہوگی۔ مگر جب
* نے کہا دورات کا عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنھماسے ملے ان سے عرض کی کہ ہم نے ہلال دیکھا کوئی کہتا ہے تین شب کا ہے ۔ کوئی دو شب کا فرمایا تم نے کس رات دیکھا ؟ ہم نے کہا فلاں شب کہا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کا مدار رویت پر رکھا ہے تو وہ اسی رات کا ہے جس رات نظر آیا۔

       (صحیح مسلم   باب بیان انہ لااعتبار یکرہ الھلال وصغرہ)

(۱)القرآن        ۴۰/۱۲  

(۲)فتاوی بزازیہ علی حاشیہ فتاوی ہندیہ             کتاب الصوم الفصل الاول
Flag Counter