Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
59 - 59
تک یوم النحر ثابت نہ ہو۔ اور جو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ روزہ کا پہلا دن قربانی کا دن ہوتا ہے یہ تشریح کلی نہیں۔ بلکہ اس سال کے اتفاق سے خبر دینا تھا۔ اور اسی طرح یہ قول کہ رجب کی چوتھی کادن یکم رمضان کا دن ہوگا۔ یہ بھی قاعدہ کلیہ نہیں۔ کبھی کبھی اس کا اتفاق ہوجاتا ہے۔

خزانۃ المفتین میں فتاویٰ کبری سے ہے
مایروی ان یوم نحر کم یوم صومکم، کان وقع ذلک العام بعینہ دون الابد، لان من اول یوم رمضان الی غرۃ ذی الحجۃ ثلاثۃ أشھر فلایوافق یوم النحر یوم الصوم الاان یتم شھران من الثلثۃ وینقص الواحد فاذا تمت الشھور الثلثۃ تتاخر عنہ، واذا نقصت الشھور الثلثہ او شھر ان تقدم علیہ فلم یصح الاعتماد علی ھذا (۱)
ترجمہ :اور یہ جو روایت کیا جاتا ہے کہ قربانی کا دن تمہارے روزہ کا دن ہے یہ کبھی کبھی واقع ہوتا ہے۔ ہمیشہ نہیں اس لئے کہ یکم رمضان کے دن سے یکم ذوالحجہ تک تین مہینے نہیں تو قربانی کا دن روزہ کے دن سے اس وقت متفق ہوگا کہ ان تین مہینوں سے دو ماہ تیس کے ہوں اور ایک ماہ انتیس کا ہو اور اگر تین ماہ تیس کے ہوں کہ قربانی کا دن روزہ کے دن سے موخر ہوگا اگر تینوں ماہ انتیس کے ہوں یا دو تو قربان کا دن روزہ کے دن سے پہلے گا۔ تو اس قانون پر اعتماد نہیں۔
 (۱)خزانۃ المفتین
Flag Counter