Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
56 - 59
یجوز لِلْمنجم أن یعمل بحساب نفسہ(۱)
جب منجمین مسلمین ثقات عدول کے بیان کا یہ حال تو آجکل کی جنتریاں۔ جو عموماً ہنود وغیرہم کفار شائع کرتے ہیں۔ یا بعض نیچری نام کے مسلمان یا بعض مسلمان بھی' تو وہ بھی انہیں ہندوانی جنتریوں کی پیروی سے کیا قابل التفات ہوسکتی ہیں۔

فقیر نے بیس برس سے بڑی بڑی نامی جنتریاں دیکھیں۔ اول مصرانی ہیت ہی ناقص و مختل ہے پھر ان جنتری سازوں کو اس کی بھی پوری تمیز نہیں۔ تقویمات کو اکب میں وہ سخت فاحش غلطیاں دیکھنے میں آئیں جن میں کوئی سمجھ وال بچہ بھی نہ پڑتا۔ پھر یہ کیا اور ان کی جنتری کیا۔ اور ان کی دوج اور پروا کی کسے پروا۔
ششم قیاسات و قرائن :۔
مثلاً چاند بڑا تھا' روشن تھا' دیر تک رہا' تو ضرور کل کا تھا۔ آج بیٹھ کر نکلا تو ضرور پندرہویں ہے۔ اٹھائیسویں کو نظر آیا تھا مہینہ تیس کا ہوگا۔ اٹھائیسویں کو بہت دیکھا نظر نہ آیا مہینہ انتیس کا ہوگا۔ یہ قیاسات تو حسابات کی وقعت بھی نہیں رکھتے۔ پھر ان پر عمل، محض جہل و زلل، حدیث میں ہے حضور پر نورسید صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
من اقتراب الساعۃ انتفاخ الاھلۃ(۲)
 (۱)ترجمہ :معراج میں ہے۔ نجومیوں کے اقوال معبر نہیں بالاتفاق اور خود نجومی کو بھی اپنے حساب پر عمل کرنا جائز نہیں۔

                                 (ردالمحتار، کتاب الصوم)

(۲)المعجم الکبیر للطبرانی                                       حدیث ۱۰۴۵۱
Flag Counter