کہ فلاں دن پہلی ہے۔ اول بعض علماء شافعیہ وبعض معتزلہ وغیرہم کا خیال اس طرف گیا تھا کہ مسلمان عادل منجموں کا قول اس بارے میں معتبر ہوسکتا ہے۔ اور بعض نے قید لگائی تھی کہ جب ان کی ایک جماعت کثیریک زبان بیان کرے کہ فلاں مہینے کی یکم فلاں روز ہے تو مقبول ہونے کے قابل ہے۔ اگرچہ واجب العمل کسی کے نزدیک نہیں مگر ہمارے ائمہ کرام اور جمہور محققین اعلام اسے اصلاً تسلیم نہیں فرماتے اور اس پر عمل جائز ہی نہیں رکھتے اور یہی حق ہے کہ حضور پر نور سید عالم صحیح حدیث میں یہاں قول منجمین سے قطع نظر وعدم لحاظ کی تصریح فرماچکے پھر اب اس پر عمل کا کیا محل۔
درمختار میں ہے ۔