Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
54 - 59
چاہے کہ وہاں چھوٹا سا قلم ہے اور یہاں اتنا بڑا بانس تو اعتبار بھی اسی نسبت پر بڑھنا چاہے شملہ بہ مقدار قلم قیاس تو اچھا دوڑا تھا۔ مگر افسوس کہ شرعاً محض مردودو نا کام رہا۔

اولاً خط و تار میں جو فرق ہیں ہم نے اپنے فتویٰ مفصلہ میں ذکر کیئے جو اس قیاس کو اذبیخ برکندہ کرتے ہیں۔ اور ان سے قطع نظر بھی کیجئے تو بحکم شرع خط ہی پر عمل حرام۔ پھر اس بانس کے قیاس کا کیا کام حکم مقیس علیہ میں باطل ہے تو مقیس آپ ہی عاری وعاطل ہے۔

مولوی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاویٰ میں خط و تار کو بے اعتبار ہی ٹھہرایا اور اس حکم میں حق کی موافقت کی مگر یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں کہ خبر تار یا خط بدرجہ کثرت پہنچ جائے تو اس پر عمل ہوسکتا ہے۔ اسے استفاضہ میں داخل سمجھنا صریح غلط۔ استفاضے کے معنی جو علماء نے بیان فرمائے وہ تھے کہ طریق پنجم میں مذکور ہوئے۔ متعدد جماعتوں کا آنا۔ اور ایک زبان بیان کرنا چاہیئے یہاں اگر متعدد جگہ سے خط یا تار آئے بھی تو اولاً وہ ان وجوہ نا جوازی سے جنہیں ہم نے اس فتویٰ میں مفصلاً ذکر کیا ہرگز بیان مقبول کے سلسلے میں نہیں آسکتے۔ ڈاک کے منشی تار کے بابو چٹھی رساں اکثر کفار یا عموماً مجاہیل یا فساق فجار ہوتے ہیں۔ اور بفرض باطل آئیں بھی تو یہ تعدد مخبرعنہ میں ہوا' نہ مخبرین میں ۔ کہ یہاں تار لینے والے بابو اگر مسلمان ثقہ ہوں بھی تو ہرگز اتنی جماعات متعددہ نہ ہوں گی جن کی اخبار پریقین شرعی حاصل ہو۔ بلکہ عامئہ بلاد میں صرف دو ایک ہی تار گھر ہوتے اور صدر ڈاک خانہ تو ایک ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ بڑے شہر میں تقسیم کے لئے دو چار برانچ اور بھی ہوں۔ بہر حال یہ خط یا تارہم