Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
53 - 59
درمختار میں ہے :۔
لایعمل بالخط (۱)
ہدایہ میں ہے :۔
الخط یشبہ الخط فلایعتبر(۲)
(۲)چہارم۔ تار :۔
یہ خط سے بھی زیادہ بے اعتبار خط میں کاتب کے ہاتھ کی علامت تو ہوتی ہے۔ یہاں اس قدر بھی نہیں۔ تو اس پر عمل کو کون کہے گا مگر اجہل سا اجہل جسے علم کے نام سے بھی مس نہیں۔

فقیر نے اس کے رد میں ایک مفصل فتویٰ لکھا اور بحمداﷲ تعالیٰ اس پر ہندوستان کے بکثرت علماء نے مہریں کیں۔ کلکتے میں چھپ کر شائع ہوا تھا۔

گنگوہی ملا نے اپنے ایک فتویٰ میں تار کی خبر اس باب میں معتبر ٹھہرائی اور اسے تحریر خط پر قیاس کیا تھا کہ تار کی خبر مثل تحریر خط کی خبر کے ہے کیونکہ تحریر میں حروف اصطلاحی ہیں جس سے مطلب معلوم ہوجاتا ہے خواہ بحرکت قلم پیدا ہوویں خواہ کسی لاٹھی یا بانس طویل کی حرکت سے (الی قولہ)''بہر حال خبر تار کی مثل خط ہے اور معتبر ہے''

یعنی خط میں قلم سے لکھتے ہیں،تار دینا ایسا ہے کہ کسی بڑے بانس سے جو ہزاروں کوس تک لمبا ہے لکھ دیا۔ تو جیسے وہ معتبر ہے ویسے ہی یہ بلکہ یہ تو زیادہ معتبر ہونا
 (۱)خط پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

                            (الدرمختار، باب کتاب القاضی الی القاضی)

(۲)خط خط سے مشابہ ہوتا ہے۔ لہٰذا معتبر نہیں۔

                      (ہدایۃ،باب کتاب القاضی الی قاضی)
Flag Counter