Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
52 - 59
کے پاس آئے۔ اب یہ بھی پلٹ گئے کہ ہاں کچھ یاد نہیں۔

پھر خبر گرم ہوئی کہ رام پور میں چاند دیکھا گیا اور جمعہ کی عید قرار پائی فقیر نے دوثقہ شخصوں کو وہاں کے دو علماء کرام اپنے احباب کے پاس بھیجا۔ معلوم ہوا وہاں بھی ابر تھا۔ کسی نے بھی نہ دیکھا۔ بارے اتنا معلوم ہوا کہ وہاں دو شخص دہلی سے دیکھ کر آئے ہیں۔ ان علماء نے ان دوشاہدوں کو بلا کر ان دو ثقات کے سامنے شہادت دلوائی۔ اور جو الفاظ فقیر نے انہیں لکھوا دیئے تھے وہ ان سے کہلوا کر ان کو تحمیل شہادت کرائی اور دونوں عالم صاحبوں نے خود ان دونوں شہود اصل کا تزکیہ کیا۔ اب ان دونوں فرع نے یہاں آکر شہادت علی الشہادت حسب قاعدہ شرعیہ دی۔ اس وقت فقیر نے عید جمعہ کا فتویٰ دیا۔ دیکھئے افواہ اخبار کی یہ حالت ہوتی ہے۔
ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
سوم ۔ خطوط واخبار :۔
بڑی دوڑ یہ ہوتی ہے کہ فلاں جگہ سے خط آیا۔ فلاں اخبار میں یہ لکھاپایا۔ حالانکہ ہم طریق چہارم میں بیان کرچکے کہ حاکم شرع کا خاص مہری دستخطی خط جس پر خود اس کی اور محکمہ دارالقضا کی مہر لگی اور اس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہو۔ اور یہاں بھی حاکم شرع کے نام آئے۔ ہرگز بغیر دو شاہدان عادل کے جنہیں لکھ کر اپنی کتاب کا گواہ بنا کر خط سپرد کیا اور یہاں انہوں نے حاکم شرع کو دے کر شہادت ادا کی ہو مقبول نہیں۔ پھر یہ ڈاک کے پرچے کیا قابل التفات ہوسکتے ہیں۔ اور اخباری گپیں تو اصلا نام لینے کے بھی قابل نہیں۔
Flag Counter