Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
51 - 59
ھذا لایکفی بدلیل قولھم اذا ستفاض الخبرو تحقق فان التحقق لایکون الاماذکرنا۔(۱)
فقیر کو بارہا تجربہ ہوا کہ ایسی شہر تیں محض بے سروپا نکلتی ہیں۔ اسی ذی الحجہ میں خبر شائع ہوئی کہ" آنولے "میں چاند ہوا ہے۔ وہاں عام لوگوں نے دیکھا۔ اور فقیر کے ایک دوست کا خاص نام بھی لیا گیا کہ وہ آئے اور خود اپنی رویت اور وہاں سب کا دیکھنا بیان کرتے تھے۔ فقیر نے ان کے پاس ایک معتمد کو بھیجا ،وہاں سے جواب ملا کہ یہاں ابر غلیظ تھا۔ نہ میں نے دیکھا نہ کسی اور نے دیکھا۔

پھر خبر اڑی کہ شاہجہا نپور میں تو ایک ایک شخص نے دیکھا فقیر نے وہاں بھی ایک معتمد ثقہ کو اپنے ایک دوست عالم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اس کا حال میں آپ کو مشاہدہ کرائے دیتا ہوں۔ ان کا ہاتھ پکڑ کر شہر میں گشت کیا اور دروازہ دروازہ دریافت کرتے پھرے۔ عید کب ہے؟ کہا جمعہ کی کہا کیا چاند دیکھا ؟ کہا دیکھا تو نہیں کہا پھر کیوں ؟ اس کا جواب کچھ نہ تھا شہر بھر سے یہی جواب ملا۔ صرف ایک شخص نے کہا میں نے منگل کو چاند دیکھا تھا اور میرے ساتھ فلاں فلاں صاحب نے بھی ۔ اب یہ عالم مع ان معتمد کے دوسرے صاحب کے پاس گئے۔ ان سے دریافت کیا ۔ کہا وہ غلط کہتا تھا اور خود ان دونوں صاحبوں کیساتھ ان گواہ صاحب
 (۱)ترجمہ :جان لے استفاضہ سے مراد واردین کی خبر متواتر ثبوت والے شہر سے اس شہر تک جہاں رؤیت ثابت نہیں ہوئی نہ محض استفاضہ اس لئے بعد کی افواہ کبھی ایک فرد کے خبر دینے سے اڑا دی جاتی ہے۔ تو بلاشک یہ ثبوت رؤیت کے لئے کافی نہیں ان فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ خبر مستفیض اور محقق ہو اور خبر محقق نہیں ہوتی مگر اس صورت میں جس کا ہم نے ذکر کیا۔

(منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق  کتاب الصوم قبیل باب مایفسد الصوم)
Flag Counter