Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
50 - 59
فتح القدیر وبحر الرائق وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔
لوشھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأوا ھلال رمضان قبلکم بیوم فصا مو اوھذا الیوم ثلثون بحسا بھم ولم یر ھولاء الھلال لایباح فطر غد، ولاترک التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وا بالرویۃ ولا علی شھادۃ غیرھم وٳنما حکوارویۃ غیرھم۔(۱)
دوم افواہ :۔
اعلم أن المراد بالاستفاضۃ تواترا الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت ٳلی البلدۃ التی لم یثبت بھا لامجرد الاستفاضۃ لانھا قد تکون مبنیۃ علی ٳخبار رجل واحد مثلا فیشیع الخبر عنہ،ولا شک أن
 (۱)ترجمہ :اگر ایک جماعت گواہی دے کہ فلاں شہر والوں نے تم سے ایک دن پہلے چاند دیکھا ہے۔ اور روزہ رکھا ہے اور یہ دن ان کے حساب سے ۳۰ کا دن ہے۔ اور انہوں نے چاند نہ دیکھا تو ان کے لئے کل عید الفطر نہ ہوگی۔ اور تراویح کا ترک نہ کریں گے اس رات میں۔ اس لئے کہ اس جماعت نے رؤیت کی گواہی نہ دی۔ نہ ان کے پاس شہادت علی الشھادت ہے بلکہ انہوں نے غیر کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔

  (فتاوی ہندیہ الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال، بحرالرائق   کتاب الصوم)
شہر میں خبر اڑ جاتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہوا،جاہل اسے تواتر واستفاضہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ جس سے پوچھئے سنی ہوئی کہتا ہے،ٹھیک پتہ کوئی نہیں دیتا، یا منتہائے سند صرف دو ایک شخص ہوتے ہیں۔ اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے۔ اس کی صورتیں وہ ہیں جو ہم نے طریق پنجم میں ذکر کیں منحۃ الخالق حاشیہ بحر الرائق میں ہے۔
Flag Counter