(۱)ترجمہ :اگر ایک جماعت گواہی دے کہ فلاں شہر والوں نے تم سے ایک دن پہلے چاند دیکھا ہے۔ اور روزہ رکھا ہے اور یہ دن ان کے حساب سے ۳۰ کا دن ہے۔ اور انہوں نے چاند نہ دیکھا تو ان کے لئے کل عید الفطر نہ ہوگی۔ اور تراویح کا ترک نہ کریں گے اس رات میں۔ اس لئے کہ اس جماعت نے رؤیت کی گواہی نہ دی۔ نہ ان کے پاس شہادت علی الشھادت ہے بلکہ انہوں نے غیر کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔
(فتاوی ہندیہ الباب الثانی فی رؤیۃ الھلال، بحرالرائق کتاب الصوم)
شہر میں خبر اڑ جاتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہوا،جاہل اسے تواتر واستفاضہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ جس سے پوچھئے سنی ہوئی کہتا ہے،ٹھیک پتہ کوئی نہیں دیتا، یا منتہائے سند صرف دو ایک شخص ہوتے ہیں۔ اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے۔ اس کی صورتیں وہ ہیں جو ہم نے طریق پنجم میں ذکر کیں منحۃ الخالق حاشیہ بحر الرائق میں ہے۔