Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
49 - 59
والوقوف صحیح استحسانا حتی الشھود للحرج الشدید۔ الخ(۱)
غرض ثبوت ہلال کے شرعی طریقے یہ ہیں، ان کے سوا جس قدر طرق لوگوں نے ایجاد کئے محض باطل ومخذول،وناقابل قبول ہیں۔ خیالات عوام کا حصر کیا ہو مگر آج کل جہال میں غلط طریقے جو زیادہ رائج ہیں وہ بھی سات ہیں
(۱)ترجمہ : پھر بحمدﷲ تعالیٰ میں نے اس کی تصریح دیکھی لباب اور اس کی شرح میں بلکہ خود شرح میں جس سے رد المحتار متعلق ہے۔ وقوف (عرفہ)کے بعد گواہی دی تو ان کی گواہی قبول نہ ہوگی۔ استحساناً وقوف (عرفہ)صحیح ہے یہاں تک کہ گواہوں کا وقوف بھی صحیح بوجہ حرج عظیم کے الحمدﷲ حق ظاہر ہوا۔

					               (الدرمختار، باب الھدی)
یکم حکایت رویت
یعنی کچھ لوگ کہیں سے آئے اور خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھا گیا، وہاں کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ظاہر ہے کہ یہ نہ شہادت رویت ہے کہ انہوں نے خود نہ دیکھا۔ نہ شہادت علی الشہادۃ کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور انہیں اپنی گواہیوں کا حامل بناتے، اور یہ حسب قواعد شرعیہ یہاں شہادت دیتے بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں اصلاً اعتبار نہیں اگرچہ یہ لوگ بھی ثقہ معتمد ہوں اور جن کا دیکھنا بیان کریں۔ وہ بھی ثقہ مستند ہوں نہ کہ جہال میں تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے کیساہی آئے کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگرچہ خود اس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سرے سے اس سے واقف ہی نہ ہو ایسی مہمل خبروں پر اعتماد کرلیتے ہیں۔
فقد ظھر الحق والحمدﷲ رب العالمین۔
Flag Counter