یعنی کچھ لوگ کہیں سے آئے اور خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھا گیا، وہاں کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ظاہر ہے کہ یہ نہ شہادت رویت ہے کہ انہوں نے خود نہ دیکھا۔ نہ شہادت علی الشہادۃ کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور انہیں اپنی گواہیوں کا حامل بناتے، اور یہ حسب قواعد شرعیہ یہاں شہادت دیتے بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں اصلاً اعتبار نہیں اگرچہ یہ لوگ بھی ثقہ معتمد ہوں اور جن کا دیکھنا بیان کریں۔ وہ بھی ثقہ مستند ہوں نہ کہ جہال میں تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے کیساہی آئے کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگرچہ خود اس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سرے سے اس سے واقف ہی نہ ہو ایسی مہمل خبروں پر اعتماد کرلیتے ہیں۔
فقد ظھر الحق والحمدﷲ رب العالمین۔