| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
فانقطع مبنی البحث من راسہ واستبان الحق وﷲ الحمد۔(۱) اماما تمسک بہ من مسئلۃ الحج فاقول لاحجۃ فیھا فانھا فیما أری لدفع الحرج العظیم،ونظیرہ مافی التنویر والدر۔(۲) تبین أن الامام صلی بغیر طھارۃ تعادا لصلوۃ دون الاضحیۃ، لان من العلماء من قال لایعید الصلاۃ الا الامام وحدہ، فکان للاجتھاد فیہ مساغ' زیلعی کما لوشھدوا انہ یوم العید، فصلوا ثم ضحوا، ثم بان انہ یوم عرفۃ، اجزأتھم الصلوۃ والتضحیۃ، لانہ لایمکن التحرز عن مثل ھذا الخطا، فیحکم بالجواز صیانۃ لجمع المسلمین زیلعی، ۱ھ(۳) ملخصا مصححا۔ ثم رأیت بحمد اﷲ التصریح بہ فی اللّباب وشرحہ بل فی نفس الشرح المتعلق بہ ردالمختار حیث قال۔ شھدوابعد الوقوف بوقوفھم بعد وقتہ لاتقبل شھادتھم،
(۱)ترجمہ:تو سرے سے بحث کا مبنی ختم ہوگیا۔ اور حق واضح ہوگیا تو اﷲ تعالیٰ کے لئے تعریف ہے۔
(۲)ترجمہ:مسئلہ حج میں اس سے دلیل پکڑنا صحیح نہیں اسی پر اس میں کوئی دلیل نہیں میری رائے میں حرج عظیم کے دفع کے لئے ہے اور اس کے مثل تنویر اور در میں ہے۔
(۳)ترجمہ:اگر امام بغیر طہارت نماز پڑھائی تو نماز لوٹائی جائے گی نہ اضحیہ اس لئے کہ علماء سے بعض نے فرمایا کہ نماز کا اعادہ نہ کرے مگر صرف امام۔ اس لئے کہ اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ (زیلعی)جیسا کہ اگر گواہی دیں کہ آج عید کا دن ہے تو لوگوں نے عید پڑھ لی اور قربانی کرلی پھر ظاہر ہوا کہ آج ۹ ذوالحجہ ہے تو ان کی نماز عید اور قربانی ہوگئی کیونکہ اس قسم کی خطا سے بچنا ممکن نہیں۔ تو جواز کا حکم دیا جائے گا۔ مسلمانوں کی جمعیت کے تحفظ کے لئے ریلعی۔ خلاصہ اور تصحیح کے ساتھ۔
(الدرمختار، کتاب الاضحیۃ)