| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
وقال صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فطرکم یوم یفطرون واضحا کم یوم یضحون(۱) رواہ ابوداؤد والبیھقی بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ۔ ثم أقول ھذا کلہ کلام معہ علی تسلیم أن النوط بالرویۃ ٳنماورد فی الصوم والفطر،ولیس کذلک،بل قد ثبت کذلک فی الاضحیۃ، وفقد اخرج ابوداؤد والدار قطنی عنأمیر مکۃ الحارث بن حاطب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ(۲) قال عھد ٳلینا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أن ننسک للرویۃ فاِن لم نرہ وشھدشاھد اعدل نسکنا بشھادتھما قال الدار قطنی ھذا اسناد متصل صحیح۔(۳)
(۱)ترجمہ:حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تمہاری عید الفطر اس دن ہے جب لوگ عید الفطر منائیں اور تمہاری قربانی کے دن وہ ہیں جس دن لوگ قربانی کریں (ابوداؤد اور بہیقی بسند صحیح ہے ابو ہریرہ سے)
(سنن أبی داؤدکتاب الصوم باب اذا خطأ القوم الھلال)
(۲)ترجمہ: پھر میں کہتا ہوں کہ یہ سب کا سب اس کے ساتھ کلام ہے۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ رؤیت کو لٹکانا صوم اور فطو میں ہے حالانکہ بات ایسے نہیں بلکہ اضحیہ میں بھی ثابت ہے ابو داؤد اور دارقطنی نے امیر مکہ حضرت حارث بن حاطب سے روایت کیا۔
(۳)ترجمہ:حضور نے ہم سے عہد لیا کہ ہم رؤیت پر قربانی کریں اور چاند خود نہ دیکھیں اور دو عادل گواہ گواہی دیں تو ہم ان کی گواہی پر قربانی کریں گے۔ دار قطنی نے فرمایا یہ اسناد متصل صحیح ہے۔
(سنن الدارمی قطنی باب شھادت علی رؤیۃ الھلال)