Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
46 - 59
وغیرھم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما وھذہ العلۃ تعم الاھلۃ۔(۱)

وھذا وان کان خلاف القیاس فلا یمتنع الالحاق بہ دلالۃ' وان امتنع قیاسا کما قدنص علیہ العلماء ومنھم العلامۃ الشامی فی نفس ھذا الکتاب۔(۲)

ولاشک أن ذاالحجۃ کالفطر سواء بسواء۔(۳) وقد رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم

الفطر یوم یفطر الناس، والاَضحی یوم یضحی الناس"(۴) أخرجہ الترمذی بسند صحیح عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا۔
 (۱)ترجمہ :رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے حساب کے اعتبارکے اسقاط کی یہ علت بیان فرمائی کہ ہم امی ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں جیسا کہ اس کو بخاری، مسلم،ابوداؤد،نسائی وغیرھم نے روایت کیا۔ ابن عمر سے اور یہ علت تمام چاندوں کو شامل ہے۔ 

(۲)ترجمہ:یہ اگرچہ خلاف قیاس ہے لیکن دلالۃً اس کا الحاق ممتنع نہیں اگرچہ قیاساً ممتنع ہے۔ جیسا کہ اس پر علماء نے نص فرمائی اور انہیں میں سے علامہ شامی نے اپنی اسی کتاب میں لکھا ہے۔

(۳)ترجمہ:اس میں شک نہیں کہ ذوالحجہ فطر کی طرح ہے برابر برابر۔

(۴)ترجمہ:حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جس دن لوگ فطر کریں وہی فطر کا دن ہے اور جس دن لوگ قربانی کریں وہی قربانی کا دن ہے اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ امام ترمذی نے صدیقہ سے روایت کیا۔

      (الجامع للترمذی،باب ماجاء فی الفطر والاَضحی متی یکون)
Flag Counter