| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئ لوظھرانہ رئی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذلک فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرویۃ و ھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلوۃ یلزم کل قوم العمل بما عندھم فتجزئ الاضحیۃ فی الیوم الثالث عشر وان کان علی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔(۱)
اقول مگر صحیح اس کے خلاف ہے
کلام علماء صاف مطلق وعام اور اس تخصیص میں بوجوہ کلام
فان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم علل اسقاط اعتبار الحساب بانا امۃ امیۃ لانکتب ولانحسب(۲) کما رواہ الشیخان وابوداؤد، والنسائی
(۱)ترجمہ : کتاب الحج میں فقہاء کے کلام سے معلوم ہوا کہ اس میں اختلاف مطالع معتبر ہے تو ان پر لازم نہیں اگر یہ بات ظاہر ہو کہ فلاں شہر میں چاند ہوگیا ایک دن پہلے سے۔ تو کیا یہ بات حجاج کے بغیر اضحیہ کے حق میں کہی جائے گی۔ تو اس کو میں نے دیکھا۔ ظاہری جواب میں ہاں ہی ہے کیونکہ اختلاف مطالع روزہ میں اس لئے معتبر نہیں کہ وہ مطلق رؤیت سے متعلق ہے بخلاف قربانی کے تو ظاہر میں یہ ہے کہ یہ اوقات نماز کی طرح ہے ہر قوم پر وہی لازم ہے جو ان کے پاس ہے تو قربانی تیرھویں دن بھی جائز ہوگی اگرچہ اوروں کے نزدیک ۱۴ واں دن ہو۔
(ردالمحتار، کتاب الصوم)
(۲)صحیح بخاری باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا نکتب ولانحسب،سنن ابی داؤد اول کتاب الصیام