جہاں دوسرے شہر کی رویت سے یہاں حکم ثابت کیا جائے جیسے دوم سے پنجم تک چار طریقوں میں ان کے بارے میں علامہ شامی رحمہ اﷲتعالیٰ کی رائے یہ ہے کہ اگر وہ دوسرا شہر اس شہر سے اس قدر مغرب کو نہ ہٹا ہو جس کے باعث رؤیت ہلال میں اختلاف پڑسکے جب تو وہ طریقے ہر ہلال میں کام دیں گے ورنہ غیر رمضان و شوال میں معتبر نہ ہوں گے ۔ یعنی اگر وہ شہر اس شہر سے اتنا غربی ہے جس کی مقدار بعض علماء نے یہ رکھی ہے کہ بہتر میل یا زیادہ اس کا طول شرقی اس کے طول شرقی سے کم ہو اور وہاں کی رویت ہلال ذی الحجہ پر مثلاً شہادت،یا شہادت علی الشہادت،یا شہادت علی القضا گزری،یا کتاب القاضی خبر متواتر آئی تو یہاں اس پر عمل نہ ہوگا بلکہ اپنے ہی شہر،یا اس کے قریب مواضع،یا شرقی بلاد سے۔ اگرچہ کتنے ہی فاصلے پر ہوں۔ ثبوت آنے پر مدار رکھیں گے۔ اور نہ ملا تو تیس کی گنتی پوری کریں گے۔