| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
ہوا کرتے ہوں۔ کسی کے آنے جانے کی سلامی وغیرہ کا اصلاً احتمال نہ ہو۔ ورنہ شہر اگرچہ اسلامی ہو مگر وہاں احکام شرعیہ کی قدر نہیں۔ احکام جہال بے خرد،یا نیچری،رافضی،وغیرہم بدمذہبوں کے حوالے ہیں جنہیں نہ قواعد شرعیہ معلوم ،نہ انکے اتباع کی پرواہ اپنی رائے ناقص میں جو آیا اس پر حکم لگادیا،توپیں چل گئیں،تو ایسی بے سروپا باتیں کیا قابل لحاظ ہوسکتی ہیں۔
کمالایخفی۔
پھر جہاں کی توپیں شرعاً قابل اعتماد ہوں ان پر عمل اہل دیہات ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عند التحقیق خاص اس شہر والوں کو بھی ان پر اعتمادسے مفر نہیں کہ حاکم شرع کے حضور شہادتیں گزرنا اس کا ان پر حکم نافذ کرنا ہر شخص کہاں دیکھتا سنتا ہے بحکم حاکم اسلام اعلان عام کے لئے ایسی ہی کوئی علامت معہودہ معروفہ قائم کی جاتی ہے جیسے توپوں کے فیریا ڈھنڈورا وغیرہ۔ اقول :یہیں سے ظاہر ہوا کہ ایسے اسلامی شہر میں منادی پر بھی عمل ہوگا حتی کہ اس کی عدالت بھی شرط نہیں جب کہ معلوم ہو کہ بے حکم سلطانی ایسا اعلان نہیں ہوسکتا۔ عالمگیر یہ میں ہے :۔
خبر منادی السلطان مقبول عدلا کان اوفاسقا کذا فِی جواھرالاخلاطی۔ (۱)
(۱) ترجمہ : بادشاہ کے منادی کی خبر مقبول ہے منادی عادل ہو یا فاسق اسی طرح جواہر الاخلاطی میں ہے۔
(فتاوی ہندیہ ، کتاب الکراہیۃ)