Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
41 - 59
کرتی ہے،یا اس کے سوا کوئی اور مانع خفی خلاف معتاد ہے۔ ہاں اگر آج ابرو غبار ہے تو مطلقاً تیس پورے کرکے عید کرلیں گے۔ اگرچہ ہلال رمضان ایک ہی شاہد کی شہادت سے مانا ہو کہ اب اس کی غلطی ظاہر نہ ہوئی۔

تنویر میں ہے :
بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل لا۔ (۱)
درمختار میں ہے:
نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ انہ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقاًٳلخ(۲) وتمام تحقیقہ فی ردالمحتار وما علقنا علیہ۔
طریق ہفتم
علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے توپیں سننے کو بھی حوالی شہر کے دیہات والوں کے واسطے دلائل ثبوت ہلال سے گنا۔

ظاہرہے کہ یہاں بھی وہی شرائط مشروط ہوں گے کہ اسلامی شہر میں حاکم شرع معتمد کے حکم سے اونتیس کی شام کو توپوں کے فیر صرف بحالت ثبوت شرعی رُؤیت ہلال
 (۱)ترجمہ :دو عادل گواہوں کے قول سے رمضان شروع کیا تیس دن پورے ہونے کے بعد عبد الفطر منانا حلال ہے۔ اگر ایک عادل کی وجہ سے روزہ رکھا تو اب تیس دن کے بعد بھی عید الفطر منانا جائز نہیں ۔

                   (تنویر الابصار مع الدرمختار، کتاب الصوم)

(۲)ترجمہ :امام ابن کمال سے ذخیرہ سے نقل فرمایا کہ عید الفطر کے چاند میں اگر مطلع ابر آلود تھا تو تیس دن پورے ہونے پر بالاتفاق عید کرنا حلال ہے اور پوری تحقیق رد المحتار میں ہے اور اس پر ہماری تعلیقات میں ہے۔

     		       (الدرمختار شرح تنویر الابصار، کتاب الصوم)
Flag Counter