یہ طریقہ صفائی مطلع کی حالت میں کافی ہے اگرچہ ہلال نظر نہ آئے جب کہ گزشتہ ہلال رویت واضحہ یاد وگواہان عادل کی شہادت سے ثابت ہولیا ہو۔ ہاں اگر ایک گواہ کی شہادت پر ہلال رمضان مان لیا اور اس حساب سے تیس دن آج پورے ہوگئے اور اب مطلع روشن ہے اور عید کا چاند نظر نہیں آتا تو یہ اکمال عدت کافی نہ ہوگا بلکہ صبح ایک روزہ اور رکھیں کہ اگلے ہلال کا ثبوت حجت نامہ سے نہ تھا اور باوصف صفائی مطلع تیس کے بعد بھی چاند نظر نہ آنا صاف گواہ ہے کہ اس گواہ نے غلطی کی اور جب کہ وہ ہلال حجت نامہ دو گواہان عادل سے ثابت تھا تو آج باوصف مطلع نظر نہ آنا اس پر محمول ہوگا کہ ہلال بہت باریک ہے،اور کوئی بخار قلیل المقدار خاص اسی کے سامنے حاجب ہے،جسے صفائی عامہ افق کے سبب نظر صفائی مطلع گمان