''قال شمس الائمۃ الحلوائی الصحیح من مذھب اصحابنا أن الخبرٳذا استفاض وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم، حکم ھذہ البلدۃ وغیر ذلک''بلاشبہ اس صورت کو بھی شامل ۔ واﷲ تعالیٰ أعلم باحکامہ۔
* نے کہ اس دن وہاں نہیں تھا تو قبول نہ کی جائے گی۔ لیکن محیط میں فرمایا ۵۱ نمبر میں کہ اگر لوگوں کے نزدیک تواتر ہے اور کل نے جانا کہ وہ اس مکان وزمان میں نہ تھا تو دعویٰ مسموع نہ ہوگا اور ذمہ سے فراغت کا فیصلہ کیا جائیگا اس لئےکہ اس سے ثابت بالضرورۃ کی تکذیب ہوگی۔
(الدر مختار، باب القبول وعدمہ)
(۱)ترجمہ:مشہور متواتر کے خلاف گواہی قبول نہ ہوگی اور وہ یہ ہے کہ مشہور ہو اور کثیر قوم سے سنا گیا جن کا کذب پر اتفاق متصور نہیں۔
(العقود الدریۃ، کتاب الشھادۃ ومطالبہ)
(۲)الدرمختار کتاب الصوم
(۲)ترجمہ:کسی اور شہر میں خبر مستفیض پہنچی تو قبول ہے
(۳)ترجمہ :شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا ہمارے اصحاب سے مشہورمذہب یہی ہے خبر چپ استفاضہ تک پہنچے اور شہر والوں میں ثابت ہو تو ان پر لازم ہے اس شہر کا حکم۔
(رد المحتار بحوالہ الذخیرہ، کتاب الصوم)