فی النوادر عن الثانی شھدا علیہ بقول أوفعل یلزم علیہ بذلک ٳجارۃ أوبیع أوکتابۃ أوطلاق أوعتاق أوقتل أوقصاص فی مکان أوزمان أوصفات فبرھن المشھود علیہ أنہ لم یکن ثمہ یومئذلا تقبل، لکن قال المحیط فی الحادی والخمسین أن تواتر عند الناس وعلم الکل عدم کونہ فی ذلک المکان والزمان لا تسمع الدعوی ویقضی بفراغ الذمۃ لأ نہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ۔(۳)
عقود الدریہ میں فتاوی صغیری سے ہے :۔
(۱)ترجمہ :اگر سب کے سب غیرثقہ ہوں تب بھی ان کی خبر پر تواتر کی وجہ سے اعتماد کیاجائیگا۔
(فتاوی ہندیہ، الباب الثانی عشر فی الجرح والتعدیل)
(۲)الدر مختارباب القبول وعدمہ
(۳)ترجمہ:نوادر میں ثانی سے ہے کہ دو مردوں نے اس پر گواہی دی کس قول پر یا فعل پر تو وہ اس پر لازم ہوگا۔ اس وجہ سے اجارہ میں یابیع میں یا مکاتب کرنے میں یا طلاق میں یا آزاد کرنے میں یا قتل میں یا قصاص (بدلہ لینے)میں یا زمان میں یا صفات میں پس برہان قا ئم کی مشہود علیہ *