Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
37 - 59
تنبیہ الغافل والوسنان علی أحکام ھلال رمضان میں ہے: 

لما کانت الاستفاضہ بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بہا أن اھل تلک البلدۃ صاموالزم العمل بہا لأن المراد بہا بلدۃ فیہا حاکم شرعی ٳلخ۔(۱)
دربارۀ استفاضہ یہ تحقیق علامہ شامی کی ہے۔ اور اس تقدیر پر وہ شرائط ضرور ہیں کہ صوم َوعید پر بنائے حکم حاکم شرع عالم متبع احکام ہوا کرتا ہو۔ اور ایک صورت یہ بھی متصور کہ دوسرے شہر سے جماعات کثیرہ آئیں اور سب بالاتفاق بیان کریں کہ وہاں ہمارے سامنے عام لوگ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے جن کا بیان مورث یقین شرعی تھا۔ ظاہراً اس تقدیر پر وہاں کسی ایسے حاکم شرع کا ہونا ضرور نہیں کہ رویت فی نفسہا حجت شرعیہ ہے ۔
لقولہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صوموالرویتہ وافطر والرؤیتہ۔(۲)
جب جماعت تو اتر ،جماعت تواتر سے ان کی رویت کی ناقل ہے تو رویت بالیقین ثابت ہوگئی۔ اور شہادت کی حاجت نہ رہی کہ اثبات احکام میں تواتر
 (۱)ترجمہ : جب استفاضہ بمنزلہ خبر متواتر کے ہے اور تحقیقی طور پر ثابت ہوا کہ فلاں شہر والوں نے روزہ رکھا تو اس پر عمل لازم ہوا اس لئے کہ اس شہر میں حاکم شرعی کے حکم سے روزہ ہوا۔ 

 	       (تنبیہ الغافل والوسنان، رسالہ من رسائل ابن عابدین الرسالۃ التاسعۃ)

(۲)ترجمہ :اس لئے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔

			       (صحیح البخاری، باب اذا رأیتم الھلال فصوموا)
Flag Counter