| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
قال الرحمتی معنی الاٖ ستفاضۃ أن تأتی من تلک البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن أھل تلک البلدۃ أنہم صاموا عن رویۃ لا مجرد الشیوع من غیر علم بمن أشاعہ، کما قد تشیع ٳخبار یتحدث بہا سائر أھل البلدۃ' ولایعلم من اشاعھا کما وردان فی أخر الزمان یجلس الشیطن بین الجماعۃ' ویتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقو لون لا ندری من قالہا فمن ھذا لاینبغی انہ سمع فضلا من أن یثبت بہ حکم ۱ھ قلت وھو کلام حسن ویشیراٖ لیہ قول الذخیرۃ اٖذا استفاض وتحقق فاٖن التحقق لا یوجدبمجرد الشیوع۔(۱)
* ہوتے تو ضروری ہوا کہ اس شہر والوں کا روزہ حاکم شرعی کے حکم سے رکھا گیا ۔ تو یہ خبر استفاضہ حکم مذکور کے نقل کے معنی میں ہوگی۔
(ردالمحتار، کتاب الصوم)
(۱)ترجمہ :رحمتی نے فرمایا کہ استفاضہ کا معنی یہ ہے کہ اس شہر سے کئی متعدد جماعتیں آئیں اور کہیں کہ فلاں دن وہاں روزہ ہوگیا رؤیت کی وجہ سے مطلقاً اڑتی خبر سے رؤیت ثابت نہیں ہوتی پتہ نہیں یہ خبر کس نے اڑائی کس نے پھیلائی جیسا کہ مقام شہروں میں خبریں پھیل جاتی ہے مگر پھیلانے والوں کا پتہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ وارد ہوا کہ آخر زمانہ میں شیطان جماعت میں بیٹھ کر کوئی کلام کریگا پھر لوگ پھیلانے لگ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ کلام کس نے کیا اس صورت میں جب ثابت نہیں تو حکم کس طرح ثابت ہوگا اور میں کہتا ہوں یہ اچھا کلام ہے۔ اور اس کی طرف ذخیرہ کے قول میں اشارہ ہے کہ جب خبر مستفیض اور محقق ثابت ہو اور تحقق صدق کلام کے پھیلنے سے نہیں ہوتا۔
(ردالمحتار، کتاب الصوم)