Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
35 - 59
درمختار میں ہے ۔
شہدوا أنہ شھد عند قاضی مصر کذا شاھدان برویۃ الہلال، وقضی بہ قضی القاضی بشھادتھا لأن قضاء القاضی حجۃ وشھدوابہ' لا لوشھدوا برویۃ غیرھم' لأنہ حکایۃ' نعم لواٖستفاض الخبر فی البلدۃ الاخری لزمھم علی الصحیح من المذہب مجتبی وغیرہ۔(۱)
رد المختار میں ہے:
ھذہ الاستفاضہ لیس فیھا شھادۃ علی قضاء قاض' ولا علی شھادۃ' لکن لما کانت بمنزلۃ الخبر المتواتر' وقد ثبت بہا أن أھل 

تلک البلدۃ صاموا یوم کذ الزم العمل بہا' لأن البلدۃ لا تخلو عن حاکم شرعی عادۃ' فلابد من ان یکون صومھم مبنیا علی حکم حاکمھمَ الشرعی فکانت تلک الاٖستفاضہ بمعنی نقل الحکم المذکور ٳلخ۔(۲)
 (۱)ترجمہ : لوگوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے ہاں دو گواہوں نے رویت ہلال کی گواہی دی اور قاضی شہر نے ان کی گواہی پر چاند ہونے کا فیصلہ دیا۔ اس صورت میں چاند ثابت ہو جائے گا اس لئے کے قاضی کا فیصلہ حجت ہے۔ اور لوگوں نے اس کی گواہی دی اور ان کے غیر کے رویت پر گواہی دینے سے چاند ثابت نہ ہوگا اس لئے کہ یہ حکایت ہے نہ کہ قاضی کا فیصلہ اس لئے یہ قبول نہیں ہاں اگر خبر مستفیض ہے گروہ در گروہ نے آکر بیان کیا کہ فلاں شہر چاند ثابت ہوگیا تو اس دوسرے شہر والوں پر لازم ہوگیا کہ اس کو تسلیم کریں مذہب حنفیہ میں یہی صحیح قول ہے۔ (مجتبیٰ وغیرہ)

                                                (الدرالمختار، کتاب الصوم) 

(۲)ترجمہ :یہ خبر استفاضہ اگرچہ اس میں قاضی کے فیصلہ پر گواہی نہیں اور نہ گواہی پر گواہی ہے لیکن یہ خبر متواتر کے قائم مقام ہے کہ فلاں شہر والوں نے فلاں دن روزہ رکھا تو اس خبر کے پہنچنے پر دوسرے شہر والوں پر عمل لازم ہوگیا۔ اس لئے کہ عادۃ (اسلامی) شہر حاکم شرعی سے خالی نہیں  *
Flag Counter