(۱)ترجمہ : لوگوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے ہاں دو گواہوں نے رویت ہلال کی گواہی دی اور قاضی شہر نے ان کی گواہی پر چاند ہونے کا فیصلہ دیا۔ اس صورت میں چاند ثابت ہو جائے گا اس لئے کے قاضی کا فیصلہ حجت ہے۔ اور لوگوں نے اس کی گواہی دی اور ان کے غیر کے رویت پر گواہی دینے سے چاند ثابت نہ ہوگا اس لئے کہ یہ حکایت ہے نہ کہ قاضی کا فیصلہ اس لئے یہ قبول نہیں ہاں اگر خبر مستفیض ہے گروہ در گروہ نے آکر بیان کیا کہ فلاں شہر چاند ثابت ہوگیا تو اس دوسرے شہر والوں پر لازم ہوگیا کہ اس کو تسلیم کریں مذہب حنفیہ میں یہی صحیح قول ہے۔ (مجتبیٰ وغیرہ)
(الدرالمختار، کتاب الصوم)
(۲)ترجمہ :یہ خبر استفاضہ اگرچہ اس میں قاضی کے فیصلہ پر گواہی نہیں اور نہ گواہی پر گواہی ہے لیکن یہ خبر متواتر کے قائم مقام ہے کہ فلاں شہر والوں نے فلاں دن روزہ رکھا تو اس خبر کے پہنچنے پر دوسرے شہر والوں پر عمل لازم ہوگیا۔ اس لئے کہ عادۃ (اسلامی) شہر حاکم شرعی سے خالی نہیں *