رؤیت ہلال ہوا یاعید کی گئی۔
مجرد بازاری افواہ کہ خبر اڑ گئی اور قائل کا پتہ نہیں۔ پوچھے تو یہی جواب ملتا ہے کہ سنا ہے یا لوگ کہتے ہیں۔ یا بہت پتہ چلا تو کسی مجہول کا انتہا درجہ منتہائے سند دو ایک شخصوں کی محض حکایت کہ انہوں نے بیان کیا اور شدہ شدہ شائع ہوگئی ایسی خبر ہرگز استفاضہ نہیں۔
بلکہ خود وہاں کی آئی ہوئی متعدد جماعتیں درکار ہیں جو بالاتفاق وہ خبر دیں۔
یہ خبر اگرچہ نہ خود اپنی رویت کی شہادت ہے۔ نہ کسی شہادت پر شہادت نہ بالتصریح قضائے قاضی پر شہادت' نہ کتاب قاضی با شہادت مگر اس مستفیض خبر سے
بالیقین یا بہ غلبہ ظن ملتحق بالیقین وہاں رؤیت وصوم و عید کا ہونا ثابت ہوگا۔ اور جب کہ وہ شہر اسلامی اور احکام و حکام کی وہاں پابندی دوامی ہے تو ضرور مظنون ہوگا کہ امر بحکم واقع ہوا۔ تو اس طریق سے قضائے قاضی کہ حجت شرعیہ ہے ثابت ہوجائے گی۔
اور یہیں سے واضح ہوا کہ تاریخ شہر جہاں نہ کوئی قاضی شرع نہ مفتی اسلام یا مفتی ہے مگر نا اہل،جسے خود احکام شرع کی تمیز نہیں جیسے آج کل کے بہت مدعیان خام کار،مخصوصاً وہابیہ، خصوصاً نامقلدین،وغیرہم فجار،یابعض سلیم الطبع سنی،ناقص العلم ناتجربہ کار،یا مفتی محقق معتمد عالم مستند ہے مگر عوام خود سراس کے منتظر احکام نہیں پیش خویش اپنے قیاسات فاسدہ پر جب چاہیں عید و رمضان قرار دے لیتے ہیں ایسے شہروں کی شہرت بلکہ تواتر بھی اصلاً قابل قبول نہیں کہ اس سے کسی حجت شرعیہ کا ثبوت نہ ہوا۔