Brailvi Books

ثُبوتِ ہلال کے طریقے
33 - 59
دررد غرر میں ہے:
لایقبلہ أیضا اٖلا بشھادۃ رجلین أورجل وامرأتین لأن الکتاب قدیزوراذ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم فلایثبت الا بحجۃ تامۃ۔(۱)
طریق پنجم

استفاضہ
یعنی جس اسلامی شہر میں حاکم شرع قاضی اسلام ہو کہ احکام ہلال اسی کے یہاں سے صادر ہوتے ہیں۔ اور وہ خود عالم۔ اور ان احکام میں علم پر عامل و قائم۔ یا کسی عالم دین محقق معتمد پر اعتماد کا ملتزم وملازم ہے۔ یا جہاں قاضی شرع نہیں تو مفتی اسلام مرجع عوام و متبع الاحکام ہو کہ احکام روزہ و عیدین اسی کے فتویٰ سے نفاذپاتے ہیں۔ عوام کالانعام بطور خود عید رمضان نہیں ٹھہرا لیتے۔ وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور سب ایک زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن بربنائے
* اور اسی پر فتویٰ ہے۔ اور یہ مکتوب باطل ہو جائے گا کاتب کی موت سے اور اس کے معزول ہونے سے دوسرے قاضی کی قراء ت سے پہلے اور کاتب کے مجنون اور مرتد اور اندھے ہونے سے اور اس کے حدقذف سے مذکورہ وجوہات سے قاضی اول کاتب اہلیت قاضی سے نکل جائے گا۔ اسی طرح قاضی دوم مکتوب الیہ کی موت سے بھی اہلیت ختم ہوجائے گی مگر جبکہ عام ہو۔ حاکم کی طرف سے مقرر کردہ قاضی کاخط قبول نہیں کیاجائیگا جو امام کی طرف سے مقرر کیاگیاہو۔

                                        (الدرالمختار، کتاب القاضی الی القاضی)

(۱)ترجمہ :قاضی اول کا خط بھی قبول نہ ہوگا مگر دو گواہ مرد ہوں یا ایک مرد اور دوعورتیں ہوں اس لئے کہ مکتوب غلط ہوسکتا ہے اور خط خط کے مشابہ بھی ہوتا ہے اور مہر مہر کے مشابہ بھی ہوسکتی ہے تو حجت تام کے بغیر ثبوت نہ ہوگا۔

                       (در غرر، باب کتاب القاضی الی القاضی)
Flag Counter