| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
اور یہ بھی ضرور ی ہے کہ جب تک یہ خط قاضی مکتوب الیہ کو پہنچے اور وہ اسے پڑھ لے اس وقت تک کاتب زندہ رہے اور معزول نہ ہو ورنہ اگر خط پڑھے جانے سے پہلے مرگیا یا برخاست ہوگیا تو اس پر عمل نہ ہوگا اور بحالت زندگی یہ بھی ضرور ہے کہ جب تک مکتوب الیہ اس خط کے مطابق حکم نہ کرلے اس وقت تک کاتب عہدہ قضا کا اہل رہے ورنہ اگر حکم سے پہلے کاتب مثلاً مجنوں یا مرتد یا اندھا ہوگیا تو بھی خط بیکار ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے:۔
القاضی یکتبٳلی القاضی بحکمہ وأن لم یحکم کتب الشھادۃ لیحکم المکتوب الیہ بھا علی رائہ و قرأ الکتاب علیھم اوا علمھم بما فیہ وختم عندھم وسلم الیھم بعد کتابۃ عنوانہ وھوان یکتب فیہ اسمہ واسم المکتوب الیہ وشھر تھما واکتفی الثانی بان یشھدھم انہ کتابہ و علیہ الفتویٰ ویبطل الکتاب بموت الکاتب وعزلہ قبل القراء ۃ وبجنون الکاتب وردتہ وحدہ لقذف وعمائہ لخروجہ عن الاھلیۃ وکذا بموت المکتوب الیہ وخروجہ عن الا ھلیۃ الا اذاعمم۔ولایقبل کتاب القاضی من محکم بل من قاض مولی من قبل الاٖمام۔(۱)
(۱)ترجمہ :قاضی قاضی کی طرف لکھے کہ میں نے یہ کے دیا ہے کہ اگر قاضی حکم نہ دے تو گواہی کو مکتوب الیہ قاضی کی طرف لکھ بھیجے کہ تم اپنی رائے پر فیصلہ دو اور قاضی اول خط کو گواہوں پر پڑھے یا مکتوب کے مضمون کے متعلق گواہوں کو خبر دے اور ان کے مہر لگا کر (بند کردے)اور عنوان کتاب کے بعد ان کو (گواہوں کو)خط دیدے اور عنوان میں اپنا نام اور دوسرے مکتوب الیہ قاضی کا نام لکھے اور ان دونوں کی شہرت کو بھی۔اور (یہ) قاضی ان کی گواہی پر اکتفا کرے کہ یہ فلاں کا خط ہے *