یعنی قاضی شرع جسے سلطان اسلام نے فصل مقدمات کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے شرعی گواہی گذری۔ اس نے دوسرے شہر کے قاضی شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادت شرعیہ قائم ہوئی۔ اور اس خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو۔ اور وہ خط دو گواہان عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضی فلاں شہر کے نام ہے وہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہادت ادا کی کہ آپ کے نام یہ خط فلاں قاضی فلاں شہر نے ہم کو دیا اور ہمیں گواہ کیا کہ یہ خط اس کا ہے۔ اب یہ قاضی اگر اس شہادت کو اپنے مذہب کے مطابق ثبوت کے لئے کافی سمجھے تو اس پر عمل کرسکتا ہے۔
(اور بہتریہ ہے کہ "قاضی کاتب "خط لکھ کر ان گواہوں کو سنادے یا اس کا مضمون بتادے اور خط بند کرکے ان کے سامنے سربمہر کردے اور اولیٰ یہ کہ اس کا مضمون ایک کھلے ہوئے پرچے پر الگ لکھ کر بھی ان شہودکو دے دے کر اسے یاد کرتے رہیں یہ آخر مضمون پر بھی گواہی دیں کہ خط میں یہ لکھا ہے اور سربمہر خط اس قاضی کے حوالہ کریں یہ زیادہ احتیاط کے لئے ہے ورنہ خیر اسی قدر کافی ہے کہ دو مردوں یا ایک مرد دو عورتیں عادل کو خط سپرد کرکے گواہ کرلے اور وہ باحتیاط یہاں لا کر شہادت دیں) بغیر اس کے اگر خط ڈاک میں ڈال دیا یا اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا تو ہرگز مقبول نہیں اگرچہ وہ خط اسی قاضی کا معلوم ہوتا ہو اور اس پر اس کی اور اس کے محکمہ قضا کی مہر بھی لگی ہو۔