| ثُبوتِ ہلال کے طریقے |
تو مفتی کے حضور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں ہمارے سامنے فلاں شہر کے فلاں حاکم کے حضور فلاں ہلال کی نسبت فلاں دن کی شام کو ہونے کی گواہیاں گذریں اور حاکم موصوف نے ان گواہیوں پر ثبوت ہلال مذکور شام فلاں روز کا حکم دیا۔ فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے۔
لوشھدوا أن قاضی بلدۃ کذا شھد عندہ اثنان برویۃ الہلال فی لیلۃ کذا وقضی بشھادتھما جاز لھذا القاضی أن یحکم بشھادتھما لأن قضاء القاضی حجۃ وقد شھدوابہ۔(۱)
اسی طرح فتاویٰ قاضی خاں وفتاویٰ خلاصہ وغیرہما میں ہے
قلت وقیدہ فی التنویر تبعاً للذخیرۃ عن مجموع النوازل باستجماع شرائط الدعوی ووجھہ العلامۃ الشامی بتوجیھین لنا فی کل منھما کلام حققناہ فیما علیہ علقناہ فراجعہ ثمہ فانہ من الفوائد المھمۃ۔(۲)
(۱)اگر گواہی دیں کہ فلاں شہر کے قاضی (یامفتی)کے سامنے دو مردوں نے ُرؤیت ہلال کی گواہی دی فلاں رات میں اور اس شہر کے قاضی (یا مفتی)نے چاند کے ہونے کا فیصلہ دیا۔ تو اس شہر کے قاضی (مفتی )کے لئے جائز ہے کہ ان دونوں کی گواہی پر حکم دے۔ اس لئے کہ قاضی کا فیصلہ دوسرے قاضی پر حجت ہے اور اس بات پر انہوں نے گواہی دے۔
(فتح القدیر، کتاب الصوم)
(۲)ترجمہ :میں (امام احمد رضا) کہتا ہوں کہ تنویر میں ذخیرہ کی تابعداری میں مجموعی النوازل سے اس کو شرائط دعویٰ سی مقید کیا اور علامہ شامی نے اس کو دو توجیہوں سے بیان کیا ''ہمارے (امام احمد رضا)کے لئے ان دونوں پر ہی کلام ہے ہم نے اس کی تعلیق میں محقق کیا تو تو اس کی طرف رجوع کر اس میں اہم فائدے ہیں۔